لب کشائی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - بات کرنا، زبان کھولنا، کچھ کہنا۔ "میرا لب کشائی کرنا پھول پر عطر ملنے کے مترادف۔" ( ١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، اپریل، ٨٥ )
اشتقاق
فارسی سے ماخوذ اسم 'لب' کے ساتھ فارسی صفت 'کشا' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب 'لب کشائی' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩١٢ء کو "یاسمین" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بات کرنا، زبان کھولنا، کچھ کہنا۔ "میرا لب کشائی کرنا پھول پر عطر ملنے کے مترادف۔" ( ١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، اپریل، ٨٥ )
جنس: مؤنث